World

کرونا کی وبا اور پردیس سے آئی فیملی

Summary

ازقلم:شیراز حسنات لاہور:سعدیہ (فرضی نام) ایک پی ایچ ڈی سکالر ہیں جو اپنے دو بچوں 8 سالہ عمیر اور 4 سالہ اذان کے ساتھ پچھلے نو ماہ سے کورونا کے دورران پاکستان میں مقیم ہیں۔ انکی شادی کو دس سال […]

ازقلم:شیراز حسنات

لاہور:سعدیہ (فرضی نام) ایک پی ایچ ڈی سکالر ہیں جو اپنے دو بچوں 8 سالہ عمیر اور 4 سالہ اذان کے ساتھ پچھلے نو ماہ سے کورونا کے دورران پاکستان میں مقیم ہیں۔ انکی شادی کو دس سال کا عرصہ بیت گیا ہے اور اس دوران انہیں کبھی بھی اپنے شوہر کے بغیر رہنے کا تجربہ نہیں ہوا۔ کورونا کی وبا کے اس سارے وقت میں انہیں کس طرح کے غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انکی کہانی انہی کی زبانی سنتے ہیں۔
میرے شوہر پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور کنسلٹنٹ اینستھیٹسٹ کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ 2020 کے آغاز میں جب انہوں نے سعودی عرب جا کر جاب کرنے کا سوچا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وقت ہمارے لئے کچھ اور ہی تدبیر کئے ہوئے ہے۔ جنوری 2020 میں مییرے شوہر پاکستان سے سعودی عرب روانہ ہو گئے۔ اس وقت بچوں کا تعلیمی سیشن مکمل نہیں ہوا تھا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ جیسے ہی سیشن مکمل ہوگا۔ میں بھی اپنے دو بچوں کے ساتھ خاوند کے پاس سعودیہ منتقل ہو جاؤں گی۔
کورونا کی بڑھتی وباء کے پیش نظر مارچ میں تمام اسکولز بند ہو گئے۔ میرے خاوند سعودی عرب اور میں اپنے دو بچوں کےہمراہ یہاں پھنس گئی. یہ بہت خوفناک وقت تھا کیوں کہ مجھے اپنے خاوند سے الگ دو چھوٹے بچوں کے ساتھ اتنے بڑے گھر میں اکیلا رہنا پڑا۔
امید تو یہ تھی کہ کورونا جلد ختم ہو جائے گا اور اسی سلسلے میں میں نے اپنی منصوبہ بندی کے مطابق بچوں کا سکول بھی چھڑوا دیا، سوچا کہ جلد سعودی عرب روانہ ہو جائیں گے۔ لیکن مایوسی اس وقت شروع ہوئی جب کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے لگی اور ہمیں اس حوالے سے کوئی حتمی جواب نہ مل سکا۔
اس سارے وقت میں مجھے اکیلے مسائل سے الجھنا پڑا۔ کسی کو بناء بتائے میں تن تنہا اپنے بچوں کے لئے لڑتی رہی۔ اس سارے وقت کے دوران میں نہ صرف ایک ماں کی ذمہ داری نبھا رہی تھی بلکہ اپنے ارد گرد موجود دیگر فرائض بھی سرانجام دیتی رہی۔ ان ساری تکالیف کے دوران مجھے سب سے ذیادہ پریشانی اسوقت ہوئی جب مجھے معلوم ہوا کہ سعودی عرب میں میرے شوہر کی ڈیوٹی کورونا وارڈ میں لگا دی گئی ہے۔
میرے شوہر کو کھانا پکانے کے حوالے سے کچھ بھی معلوم نہ تھا، وہ بازار سے خریداری کر کے کھا رہے تھے۔ ایک تو وہ اسپتال میں مریضوں کی جان بچانے کے دوران روز موت سے نبرد آزما ہو رہے تھے دوسرا، انکی گھر واپسی پر کوئی انہیں کھانا پکا کر دینے اور کام کاج کرنے والا نہ تھا۔
پروازیں بند تھیں۔ میں نے شوہر کے پاس جانے کیلئے ٹریول ایجنٹس سے بارہا رابطے کئے لیکن انکے پاس بھی کائی جواب نہ تھا۔ مجھے ہر بار ایک ماہ انتظار کرنے کا کہا جاتا، مہینہ گزر جاتا تو اگلے ماہ کے انتظار پر ٹرخا دیا جاتا۔ بچے چونکہ سکول چھوڑ چکے تھے، آن لائن پڑھ رہے تھے۔ انکی تعلیم کے حرج کو روکنے کیلئے میں نے آن لائن ٹیوٹر بھی رکھوا دئیے تھے۔ اکیلے رہنا اور پورے گھر کا انتظام چلانا کسی مصیبت سے کم نہ تھا۔ نہیں معلوم تھا کہ بجلی چلی جائے تو یو پی ایس کیسے آن کرتے ہیں، اسکے لئے بھی میں اپنے خاوند کو فون کر کے ہدایات لیتی تھی۔
گھریلو پریشانیوں سے ہٹ کر مجھے بچوں کے نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ بچے باپ کی شفقت سے محروم تھے اور اکثر راتوں کا جاگ کر روتے، اپنے والد کو یاد کرتے اور ضد کرتے کہ انہیں بابا کے پاس جانا ہے۔ اس جذباتی بحران میں بچوں کا سنبھالنا میرے لئے بے حد مشکل تھا۔ انہیں تسلیاں دیکر، بہلا کر وقت گزارا کرتی رہی۔ ادھر بچوں کی دوری کے باعث بے چین باپ کو انکی کی تصاویر بھیج کر تشفی دیا کرتی۔
اپنے خاوند کے بغیر اس سارے وبائی بحران کو 9 ماہ گزر گئے،خاوند اور باپ سے دوری کے اس وقت میں بھی سب کچھ چل رہا ہے، بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ میرا چھوٹا بیٹا روز کچھ نیا سیکھتا ہے لیکن ،، انکے بابا یہاں انکے پاس، انہں بڑا ہوتا دیکھنے سے محروم ہیں۔ یہ بات میرے شوہر کو بھی پریشان کرتی ہے۔
پریشانیوں سے بھرے اس دور کے بعد اب میں ویزا کیلئے کاغذی کارروائی کے عمل سے گزر رہی ہوں۔ اس عمل کے دوران جہاں دیگر ضروری معلومات کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہوں وہیں مجھے ایک اور کام بھی کرنا ہے۔ اپنے شوہر کے پاس روانگی سے 72 گھنٹے قبل مجھے اپنا اور بچوں کا کورونا کلئرنس سرٹیفیکیٹ بھی جمع کرانا ہے۔
2 ماہ قبل کورونا کے کم ہوتے کیسز کی خبر یوں تو ہمارے لئے خوشگوار تھی لیکن ابھی بھی ایک غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ طویل بندش کے بعد بچوں کی تعلیم کا حرج روکنے کیلئے دوبارہ سکولوں میں داخل کرایا تھا۔ اب جبکہ بچے نئے سکولوں میں سیٹل ہو گئے ہیں تو سفارتخانے بھی کھل گئے ہیں۔ بیرون ملک پروازیں بھی اڑان بھر رہی ہیں۔ ایک طویل دوری کے بعد اب اپنے خاوند کے پاس جانے کا موقع تو مل رہا ہے لیکن خدشات ہیں کہ کم نہیں ہو رہے۔ یہ بھی ڈر ہے کہ سعودی عرب جا کر کورونا کی وباء پھر سے سر نہ اٹھا لے اور پھر سے لاک ڈاؤن اور کرفیو جیسے صورتحال میں سب مفلوج ہو کر نہ رہ جائے۔
کورونا سے متاثر گذشتہ نو ماہ میری زندگی کا سب سے بھیانک وقت تھا، محسوس ہوتا تھا کہ شاید سب کچھ ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ شاید کچھ بھی دوبارہ بحال نہ ہو سکے۔ لیکن اس وقت سے لڑتے لڑتے ایک چیز پر یقین ضرور پختہ ہوا کہ جہاں زندگی ہوتی ہے وہاں امید بھی لازمی ہوتی ہے۔ میں بھی پرامید ہوں کہ اگلی بہار گذشتہ موسم کی سختیوں سے کہیں ذیادہ دلکش ہو گی۔ غیر یقینی کا یہ وقت گزر جائے گا اور اچھے دن ضرور آئیں گے۔ 

READ MORE:  حکومت کو عقل مند قیادت کا کردار ادا کرنا ہو گا

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *